22 فروری 2014 - 20:30
ايران اور پانچ جمع ايک کے مذاکرات اورامريکا

امريکا کي نائب وزير خارجہ ونڈي شرمين نے يورينيم کي افزودگي کے ايران کے حق سےمتعلق اپنے پہلے والے بيان سے پسپائي اختيار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حتمي سمجھوتے ميں ايران کايورينيم کي افزودگي کا حق محفوظ رہے گا -

ابنا: امريکا کي نائب وزير خارجہ وندي شرمن نے يورينيم کي افزودگي کے ايران کے حق سےمتعلق اپنے پہلے والے بيان سے پسپائي اختيار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حتمي سمجھوتے ميں ايران کو يورينيم کي افزودگي کے اس کے حق کو تسليم کيا جائے گا -امريکا کي نائب وزيرخارجہ نے کہا کہ پانچ جمع ايک گروپ کے ساتھ ايران کے حتمي سمجھوتے کے مطابق تہران اپني سرزمين ميں يورينيم کي افزودگي جاري رکھ سکے گا اور يورينيم کي افزودگي کے پروگرام کو ايران ميں بندکرانے کي توقع ايک غير منطقي توقع ہے -امريکا کي نائب وزيرخارجہ وندي شرمن نے جو مقبوضہ فلسطين کے دورے پر ہيں کہاکہ اسرائيل کي طرح امريکا بھي چاہتا ہے کہ ايران کے اندر يورينيم کي افزودگي نہ ہو ليکن يہ توقع ايک غير منطقي توقع ہے انہوں نے کہا کہ ايران اور چھے بڑي طاقتيں حتمي سمجھوتے کے حصول کے لئے مصمم ہيں - امريکا کي نائب وزيرخارجہ وندي شرمن نے کہاکہ حتمي سمجھوتے کے حصول کے لئے ايران کے لئے بات چيت بہت ہي سخت اور دشوار ہوگي ليکن ايٹمي معامل کے حل کے لئے کوشہيں جاري رہيں گي -ونڈي شرمن اسرائيل کا دورہ کرنے کے بعد سعودي عرب جانےوالي ہيں اس کے بعدوہ خليج فارس کے ديگرملکوں کا بھي دورہ کريں گي -اس درميان ڈيکافائل نيوز ويب سائٹ نے لکھا ہے کہ امريکي نائب وزير خارجہ ونڈي شرمن نے تل ابيب ميں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ايران اور چھے بڑي طاقتيں چاہتي ہيں کہ آئندہ بيس جولائي تک حتمي معاہدہ طے پاجائے -ماہرين کا کہنا ہے کہ امريکا کي نائب وزير خارجہ کا يہ بيان صہيوني حکام اورواشنگٹن ميں سخت گيردھڑے کے لئے ايک اہم پيغام ہوسکتاہے کہ جو ايران کے ساتھ ايٹمي معاملے پر ہونےوالي بات چيت کے عمل ميں مسلسل رکاوٹيں کھڑي کرنے کي کوشش کررہے ہيں -ايران اور پانچ جمع ايک گروپ نے پچھلے ہفتے ويانا ميں ہونےوالي اپني بات چيت ميں اس امر پر اتفاق کيا ہے کہ ايران اپني ضرورت کے لئے يورينيم کي افزودگي کا عمل جاري رکھتے ہوئے بحالي اعتماد کے لئے رضاکارانہ طور پر اپنے وعدے پر عمل کرتا رہے گا اور جواب ميں ايران پر عائد مغربي ملکوں کي پابندياں بھي بتدريج اٹھالي جائيں گي -بنابريں اس سے قطع نظر کہ  يہ اتفاق رائے کس حد تک امريکا اور اسرائيل کي مرضي کے مطابق يا برخلاف ہوتا ہے اس کو آگے کي جانب ايک چند جانبہ مفاہمت کے طور پر ديکھا جارہا ہے -اور اس تازہ اتفاق رائے کے کلي مندرجات آئندہ بيس جولائي تک حتمي سمجھوتے کے حصول کے لئے راستہ ہموار کرسکتا ہے -دوسري جانب امريکا ميں اسرائيلي لابي کي تخريبي کاروائياں جاري ہيں اور امريکا کے نائب وزير خارجہ کا دورہ اسرائيل بھي اسي ہم آہنگي کے تناظر ميں ديکھا جارہا ہے -اس وقت قرائن وشواہد سے اس بات کي نشاندہي ہوتي ہے کہ ايران کے ايٹمي پروگرام کو نظرانداز کرنے اور يورينيم کي افزودگي کے ايران کے حق پر سواليہ نشان لگانے کي پاليسي ايک ناکام پاليسي ہے اور بنيادي طور پر ايران کے ايٹمي معاملے پر جو مذاکرات ہورہے اس کي بنياد ہي ايران کے ايٹمي حق کو تسليم کرنا ہے اگرچہ امريکي حکام کي کوشش ہے کہ ان مذاکرات کے ماحول کو ديگر موضوعات سے متاثر کرديں -بہرحال ويانا ميں ايران اور پانچ جمع ايک گروپ کے درميان ہونے والا اتفاق رائے ايک تعميري آغاز ہے جس نے دونوں ہي فريقوں کو حتمي سمجھوتے کے حصول سے ايک قدم اور نزديک کرديا ہے ليکن مذاکراتي عمل پر بدستور احتياط کےساتھ نظر رکھنے کي ضرورت ہے کيونکہ امريکا کي نائب وزير خارجہ کا علاقے کا دورہ ہرحال ميں اس اہميت کو ظاہر کرتا ہے جو  علاقے ميں اپنے اتحاديوں کي خوشنودي حاصل کرنے کے تعلق سے اس کے نزديک پائي جاتي ہے -

.......

/169